مہر خبررساں ایجنسی نے النشرہ کے نامہ نگارماہر الخطیب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں امن و سکون برقرار ہوگیا ہے شام کی فوج نے دمشق اور دیگر شہروں میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب ، قطر اور ترکی سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف وسیع کارروائی کرکے 4 ہزار دہشت گردوں کو ہلاک اور 7ہزار کو گرفتار کرلیا ہے ہلاک اور گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میں القاعدہ کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ماہر الخطیب اس وقت دمشق میں موجود ہیں اس کے مطابق شام کے وزیر دفاع ، نائب وزیر دفاع اور دو دیگر اعلی فوجیوں کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد دمشق میں دہشت گردوں نے بلوے شروع کردیئے لیکن شامی فوج نے فوری طور پر وارد ہوکر دہشت گردوں کا دمشق سے صفایا کردیا اور اس وقت دمشق کی سڑکوں پر آرام وسکون کا ماحول برقرار ہوگیا ہے۔ ماہر الخطیب کا کہنا ہے دمشق کے تمام محلوں میں اب امن ہی امن ہے اور لوگ شامی فوج کو دعائیں دے رہے ہیں جنھوں نے بے رحم دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے شامی عوام کو دہشت گردوں کےشر سے محفوظ رکھا۔

ماہر الخطیب کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی بڑي تعداد قطر، ترکی، لیبیا ، سعودی عرب اور اردن کے دہشت گردوں پر مشتمل ہے جو شام کی آزاد نامی فوج کے ساتھ ملکر شامی عوام اور حکومت کے خلاف دہشت گردانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں۔ماہر الخطیب کے مطابق انھوں نے العباسیین، التجارہ، الصاحیبہ ، رکن الدین، الحمیدیہ، المزہ، المرجہ،المزرعہ، العدوی، بغداد روڈ، الحمراء اور الثورہ محلوں کا قریب سے مشاہدہ کیا جہاں دہشت گردوں کا کوئي نام و نشان نہیں ہے۔ شامی عوام کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے 4 ہزار دہشت گردوں کو ہلاک اور 7 ہزار دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے گرفتار دہشت گردوں میں عربی اور مغربی ممالک کے 18 انٹیلیجنس افسر بھی شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ